جَب داویؔد پہاڑ کی چوٹی سے تھوڑی دُور آگے نکل گیا تو وہاں مفِیبوستؔ کا خادِم ضیباؔ اُس کا اِستِقبال کرنے کے لیٔے منتظر تھا۔ اُس کے پاس گدھے تھے جِن پر زینیں کسی ہُوئی تھیں اَور جِن پر دو سَو روٹیاں، کشمش کی ایک سَو ٹکیاں، اَنجیر کی ایک سَو ٹکیاں اَور مَے کا ایک مشکیزہ لدا ہُوا تھا۔