< 2 Samuelova 16 >

1 A když David sešel maličko s vrchu, aj Síba služebník Mifibozetův vyšel proti němu se dvěma osly osedlanými, na nichž nesl dvě stě chlebů, a sto hroznů suchých, a sto hrud fíků, a nádobu vína.
جَب داویؔد پہاڑ کی چوٹی سے تھوڑی دُور آگے نکل گیا تو وہاں مفِیبوستؔ کا خادِم ضیباؔ اُس کا اِستِقبال کرنے کے لیٔے منتظر تھا۔ اُس کے پاس گدھے تھے جِن پر زینیں کسی ہُوئی تھیں اَور جِن پر دو سَو روٹیاں، کشمش کی ایک سَو ٹکیاں، اَنجیر کی ایک سَو ٹکیاں اَور مَے کا ایک مشکیزہ لدا ہُوا تھا۔
2 I řekl král Síbovi: K čemu jsou tyto věci? Odpověděl Síba: Oslové pro čeled královskou k jízdě, chléb pak a fíky, aby jedli služebníci, a víno, aby se napil, kdož by ustal na poušti.
بادشاہ نے ضیباؔ سے پُوچھا،”تُم اِنہیں کس لیٔے لائے ہو؟“ضیباؔ نے جَواب دیا کہ گدھے بادشاہ کے گھرانے کی سواری کے لیٔے ہیں اَور روٹی اَور پھل لوگوں کے کھانے کے لیٔے ہیں اَور مَے اُن لوگوں کے لیٔے ہے جو بیابان میں تھک کر چُور ہو جایٔیں تاکہ اُسے پی کر تازہ دَم ہو سکیں۔
3 Opět král řekl: Kdež jest pak syn pána tvého? Odpověděl Síba králi: Aj, zůstal v Jeruzalémě, nebo řekl: Dnes navrátí mi dům Izraelský království otce mého.
تَب بادشاہ نے پُوچھا کہ،”تیرے آقا کا پوتا کہاں ہے؟“ضیباؔ نے اُسے جَواب دیا کہ وہ یروشلیمؔ میں ٹھہرا ہُواہے کیونکہ اُس کا خیال ہے کہ آج اِسرائیل کا گھرانا میرے دادا کی بادشاہی مُجھے دے دے گا۔
4 Řekl ještě král Síbovi: Aj, tvéť jsou všecky věci, kteréž má Mifibozet. Jemuž řekl Síba s poklonou: Nechať vždycky tak nalézám milost před očima tvýma, pane můj králi.
تَب بادشاہ نے ضیباؔ سے کہا،”وہ سَب جو مفِیبوستؔ کا تھا، اَب تیرا ہے۔“”میں جھُک کر آداب بجا لاتا ہُوں۔“ضیباؔ نے کہا،”اَے میرے آقا بادشاہ مُجھ پر آپ کی نظرِکرم رہے۔“
5 Tedy bral se král David do Bahurim, a aj, vyšel odtud muž z čeledi domu Saulova, jehož jméno bylo Semei, syn Gerův, kterýžto vždy jda, zlořečil.
اَور جَب داویؔد بادشاہ بحوریمؔ کے قریب پہُنچا تو وہاں سے ایک آدمی جو شاؤل ہی کے برادری سے تھا نکل کر باہر آیا۔ اُس کا نام شِمعیؔ بِن گیراؔ تھا۔ باہر آتے ہی اُس نے لعنت بھیجنا شروع کر دیا
6 Ano i kamením házel na Davida, a na všecky služebníky krále Davida, ačkoli všecken lid a všickni udatní byli po pravici jeho i po levici jeho.
وہ داویؔد اَور بادشاہ کے تمام مُلازمین پر پتّھر پھینکنے لگا حالانکہ سَب لوگ اَور جنگی جَوان داویؔد کے داہنے اَور بائیں تھے۔
7 A takto mluvil Semei, když mu zlořečil: Vyjdi, vyjdi, vražedlníče a nešlechetníče.
لعنت کرتے وقت شِمعیؔ نے کہا:”دفع ہو جا۔ دُورہو جا۔ او خُونی۔ او بدکار!
8 Obrátilť jest na tebe Hospodin všelikou krev domu Saulova, na jehož jsi místě kraloval, a dal Hospodin království v ruku Absolona syna tvého. A aj, již se vidíš v svém neštěstí, nebo jsi vražedlník.
تُم نے شاؤل کے تخت پر قبضہ جمالیا، اُس کے گھرانے کے لوگوں کا خُون بہایا۔ یَاہوِہ نے تُجھ سے اُسی کا بدلہ لیا ہے۔ یَاہوِہ نے بادشاہی تیرے بیٹے اَبشالومؔ کو دے دی ہے۔ تُو خُونی ہے اِسی لیٔے تباہی اَور بربادی کا شِکار ہو رہاہے۔“
9 I řekl Abizai syn Sarvie králi: I proč zlořečí tento mrtvý pes pánu mému králi? Nechť jdu medle a setnu mu hlavu.
تَب ابیشائی بِن ضرویاہؔ نے بادشاہ سے کہا،”یہ مریل کُتّا اَور میرے آقا بادشاہ پر لعنت کرے؟ مُجھے اِجازت دیں کہ جا کر اُس کا سَر قلم کر دُوں۔“
10 Ale král řekl: Co vám do toho, synové Sarvie, že zlořečí? Poněvadž Hospodin jemu rozkázal: Zlořeč Davidovi, i kdož by směl říci: Proč tak činíš?
لیکن بادشاہ نے کہا،”اَے بنی ضرویاہؔ۔ تُم کیوں پریشان ہوتے ہو؟ اگر وہ لعنت کر رہاہے تو اِس لیٔے کہ یَاہوِہ نے اُسے حُکم دیا ہوگا،’داویؔد پر لعنت کرے،‘پس کون پُوچھ سکےگا،’تُم کیوں اَیسا کر رہے ہو؟‘“
11 Řekl ještě David k Abizai i ke všechněm služebníkům svým: Aj, syn můj, kterýž pošel z života mého, hledá bezživotí mého, čím více nyní tento syn Jemini? Nechte ho, ať zlořečí, nebo jemu rozkázal Hospodin.
پھر داویؔد نے ابیشائی اَور تمام مُلازمین سے کہا،”جَب میرا ہی بیٹا جو میرا اَپنا خُون اَور گوشت ہے، مُجھے جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں تو یہ بِنیامینی جِتنا بھی کرے کم ہے۔ اُسے چھوڑ دو اَور لعنت کرنے دو کیونکہ یَاہوِہ نے اُسے حُکم دیا ہے۔
12 Snad popatří Hospodin na ssoužení mé, a odplatí mi Hospodin dobrým za zlořečenství jeho dnes.
شاید یَاہوِہ میری ذِلّت پر نظر کریں اَورجو لعنت آج مُجھے مِل رہی ہے آج اَپنی لعنت کے بجائے اَپنی عہد کی نِعمت مُجھے واپس کر دیں۔“
13 A tak šel David a muži jeho cestou. Semei také šel po stráni hory naproti němu, a jda, zlořečil a házel kamením proti němu a zmítal prachem.
لہٰذا داویؔد اَور اُس کے لوگ اُس راستے سے گزرتے گیٔے اَور شِمعیؔ سامنے کی پہاڑی کی ڈھلوان کے ساتھ ساتھ چلتے ہُوئے لعنت کرتا، پتّھر پھینکتا اَور خاک اُڑاتا جا رہاتھا۔
14 I přišel král a všecken lid, kterýž byl s ním, ustalý, a odpočinul tu.
اَور بادشاہ اَور اُس کے ہمراہ تمام لوگ تھکے ماندے اَپنی منزلِ مقصود پر پہُنچے اَور تازہ دَم ہُوئے۔
15 Absolon pak i všecken lid Izraelský přišli do Jeruzaléma, a Achitofel s ním.
اِس دَوران اَبشالومؔ اَور اِسرائیل کے تمام لوگ یروشلیمؔ کو آ گئے اَور اخِیتُفلؔ اُس کے ساتھ تھا۔
16 A když přišel Chusai Architský, přítel Davidův k Absolonovi, řekl Chusai Absolonovi: Živ buď král, živ buď král.
تَب داویؔد کے ہمراز ارکی حُوشائی نے اَبشالومؔ کے پاس جا کر کہا،”بادشاہ سلامت رہے! بادشاہ سلامت رہے!“
17 Tedy řekl Absolon k Chusai: Toliž jest vděčnost tvá k příteli tvému? Pročež jsi nešel s přítelem svým?
اَبشالومؔ نے حُوشائی سے پُوچھا،”کیا یہ وہ مَحَبّت تو نہیں جو تیرے دِل میں اَپنے دوست کے لیٔے ہے؟ تُو اَپنے دوست کے ساتھ کیوں نہیں گیا؟“
18 Odpověděl Chusai Absolonovi: Nikoli, ale kohož vyvolil Hospodin a lid tento i všickni muži Izraelští, toho budu a s tím zůstanu.
حُوشائی نے اَبشالومؔ سے کہا:”نہیں، جسے یَاہوِہ نے، اِن لوگوں نے اَور اِسرائیل کے سَب لوگوں نے چُنا میں اُسی کا ہُوں اَور اُسی کی خدمت میں رہُوں گا۔
19 Přesto komuž bych já sloužiti měl? Zdali ne synu jeho? Jakož jsem sloužil otci tvému, tak sloužiti budu tobě.
علاوہ اِس کے میں کس کی خدمت کروں؟ کیا مُجھے اُس کے بیٹے کی خدمت نہیں کرنا چاہئے؟ جَیسے مَیں نے تیرے باپ کی خدمت کی وَیسے ہی آپ کی خدمت کروں گا۔“
20 Řekl pak Absolon Achitofelovi: Raďtež, co máme činiti?
اَبشالومؔ نے اخِیتُفلؔ سے کہا،”مُجھے صلاح دیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟“
21 Odpověděl Achitofel Absolonovi: Vejdi k ženinám otce svého, kterýchž zanechal, aby hlídaly doma. I uslyší všecken Izrael, žes se zošklivil otci svému, a zsilí se ruce všech, kteříž jsou s tebou.
اخِیتُفلؔ نے اَبشالومؔ کو جَواب دیا:”تُم اَپنے باپ کی اُن داشتاؤں کے ساتھ صحبت کر جنہیں وہ محل کی نگہبانی کے لیٔے چھوڑ گیا ہے۔ تَب تمام اِسرائیل سُنے گا کہ تیرے باپ کو تُجھ سے گھِن آنے لگی ہے۔ یُوں جو تیرے ساتھ ہیں اُن کے ہاتھ مضبُوط ہوں گے۔“
22 A protož rozbili Absolonovi stan na paláci. I všel Absolon k ženinám otce svého před očima všeho Izraele.
پس اُنہُوں نے اَبشالومؔ کے لیٔے چھت پر ایک خیمہ لگا دیا اَور وہ تمام اِسرائیل کے سامنے اَپنے باپ کی داشتاؤں کے پاس جانے لگا۔
23 Rada pak Achitofelova, kterouž dával toho času, byla, jako by se kdo doptával na řeč Boží. Taková byla každá rada Achitofelova, jakož u Davida tak u Absolona.
اُن دِنوں اخِیتُفلؔ کی ہر صلاح خُدا داد صلاح کی مانند سَمجھی جاتی تھی۔ داویؔد اَور اَبشالومؔ دونوں اخِیتُفلؔ کی صلاح کو یہی درجہ دیتے تھے۔

< 2 Samuelova 16 >